Bus Ab… (Urdu Poem)

جذبہ فکر اب پکار بس ہونے کو ہے
شب ظلم اب آفتاب بس ہونے کو ہے
ایک قطرہ اور جو گر گیا اس مٹی پہ
خزاں کہتی ہے اب بہار بس ہونے کو ہے!

محنت کا بیج اب شاہکار بس ہونے کو ہے
سوچ بادلوں پہ اب سوار بس ہونے کو ہے
ایک آواز اور جو اٹھی پھر جگانے کو
منتظر افلاس اب بیدار بس ہونے کو ہے!

آوارہ قلم اب نقش نگار بس ہونے کو ہے
زمیں بوس اب عشک بار بس ہونے کو ہے
اقبال کا شاہیں پھڑپھڑانے لگا ہے پر
ڈٹے رہو کہ اب پرواز بس ہونے کو ہے!

۔ نبیہہ ذیشان

Advertisements