Hope (Umeed) – Urdu Poem

باد صبااگر ویراں شہر میں پہرہ در ہے تو کیا
نءے دن کے اجالے افق کے لب سے دور نہیں

اگر آج خزاں کے خوف سے کھلتی نہیں تو کیا
انہیں کلیوں کی جراءت اظہار ابھی مرحوم نہیں

پھولوں کی رنگینی آج ماند پڑ گءی تو کیا
نءی کلیوں پہ موسم بہار کی دستک مجبور نہیں

گھوڑوں کے قدم میدان میں ڈگمگانے لگے تو کیا
ہوشیار شہسواروں کے دل ابھی معمور نہیں

پرندوں کے گھونسلے آج اگر اجڑے ہیں تو کیا
انہی تنکوں سے بنے کل کے آشیانے دور نہیں

آج خشبووں کے عنواں ہم سے روٹھے ہیں تو کیا
مونی ؛ اہل وطن کے قلم ابھی معضور نہیں

۔ نبیہہ ذیشان

Advertisements